فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 5 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 5

5 کے ایک اور الہام میں اس کی تشریح ملتی ہے جس میں آپ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا۔" از فضلتك على العلمين" اربعین نمبر ۲ - روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۵۳) پس یہ وہی مضمون ہے کہ آسمان سے کئی تخت اترے اور تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔مین فرق صرف یہ ہے کہ آپ کی اپنی زبان میں اس کی کھلی کھلی تشریح بھی موجود ہے جس کو پڑھنے کے بعد ہر صاحب انسانی مطمئن ہو جاتا ہے کہ نعوذ باللہ اس فضیلت میں یا یہاں بیان شدہ فضیلت میں ہرگز آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے مقابلہ نہیں ہو رہا بلکہ ایسا مقابلہ تو جماعت احمدیہ کے نزدیک کھلا کھلا کفر ہے۔دیکھئے حضرت مرزا صاحب کے اپنے الفاظ میں تشریح کیا ہے۔فرمایا :- " جس قدر لوگ تیرے زمانہ میں ہیں سب پر میں نے تجھے فضیلت دی " ( اربعین نمبر ۲ - روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۷۲) پس حضرت مرزا صاحب کی طرف سے اس تشریح کے ہوتے ہوئے اس کے خلاف کوئی بات آپ کی طرف منسوب کرنا سراسر ظلم ہے۔بادا صاحب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب کلمتہ الفصل سے حسب ذیل اقتباس اعتراض کے طور پیش کیا ہے۔ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے ، کسی کو بہت کسی کو کم مگر مسیح موعود ( مرزا ) کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پیس ظلی نبوت نے مسیح موعود (مرزا ) کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا"۔( كلمته الفصل ۰۱۳) قارئین کرام ! آپ کو معلوم ہے کہ پہلو میں کھڑا ہونا تو خدائی صحیفوں کا ایک محاورہ ہے جو ہر گز کسی کو ہم مرتبہ نہیں بناتا۔برابری کے لئے ہم مرتبہ اور ہم پلہ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ بادا صاحب کو اردو محاوروں کا ہی علم نہیں یا پھر جانتے بوجھتے ہوئے لوگوں کو دھوکہ دے رہے