درثمین مع فرہنگ — Page 77
اُس کی طرف ہے ہاتھ ہر اک تار زُلف کا ہجراں سے اس کے رہتی ہے دو پیچ و تاب میں بر چشم منت دیکھو اُسی کو دیکھاتی ہے مبر دل اُسی کے عشق سے ہے انتہاب میں جن مورکھوں کو کاموں پر اُس کے یقیں نہیں پانی کو ڈھونڈتے ہیں عبث وہ شراب میں قدرت سے اس قدیر کی انکار کرتے ہیں سکتے ہیں جیسے مفرق ہو کوئی شراب میں دل میں نہیں کہ دیکھیں وہ اُس پاک ذات کو ڈرتے ہیں قوم سے کہ نہ پکڑیں عتاب میں ہم کو تو آسے عزیز دکھا اپنا وہ جمال کب تک وہ منہ رہے گا حجاب نقاب میں رسناتن دھرم ٹائیٹل پیج صفه ۲ مطبوعه ۱ / روحانی خزائن جلد ۱ مت۴۷) 77