درثمین مع فرہنگ — Page vi
پیش لفظ نے اپنے رب کے حضور سلطان القلم کی جماعت ہونے کا حق ادا کرنے کے لئے صد سالہ جشن تشکر کی مناسبت سے کم از کم سو قلمی نذرانے پیش کرنے کا منصوبہ بنایا۔اللہ تعالی نے اپنے فضل واحسان سے اپنی کمزور بندیوں کے اس عزم و ہمت کو قبول فرمایا ، خدمت کی نئی راہیں کھولیں اور سارا با خود اُٹھا لیا۔اب ہم بڑے عاجزانہ فخر کے ساتھ اور ثمین مع فرهنگ، پیش کر رہے ہیں۔یہ اس سلسلے کی بہترویں پیش کش ہے۔اسلام کے فتح نصیب جرنیل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود کی تصانیف اپنے اندر لازوال ابدی سچائی کی برکتیں سموتے ہوئے آفتاب کی مانند چمک رہی ہیں ان میں آپ کا برصغیر کی تین علمی زبانوں عربی فارسی اور اردو میں منظوم کلام بھی ملتا ہے۔جو ہر قسم کی فانی لذتوں سے پاک اور سرا سرحق و حکمت کی طرف رہبری کرنے والا لاثانی کلام ہے۔جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے۔کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا نہیں ہے تاریخ احمدیت میں نہیں منشی غلام قادر صاحب فصیح سیا لکوٹی ،حضرت خلیفہ نورالدین صاحب جمونی (حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے ہم نام تھے) اور حضرت حکیم فضل دین صاحب بھیر دی کے اسماء جامع در زمین کے طور پر ملتے ہیں۔انہوں نے حضرت اقدس کی زندگی میں ہی آپ کی کتب روحانی خزائن ، میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ان موتیوں کو چنا اور در زمین، مرتب کر کے شائع کی ہمیں ان بزرگ ہستیوں کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیئے۔فجزاهم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء حضرت اقدس کے اس بے مثال منظوم کلام کے متعلق ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفہ مسیح الرابع ایدہ الہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ خدام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ بر