درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 20

اسے سر پہ رکھتے تھے اہل صفا ینل سے جب پیش آتی ہلا ! جو نانک کی مدح و ثنا کرتے تھے وہ ہر شخص کو یہ کہا کرتے تھے کہ دیکھا نہ ہو جس نے وہ پارسا کا چولہ کو دیکھے کہ ہے رہنا جسے اس کے مث کی نہ ہو اسے شہر وہ دیکھے اسی چولہ کو راک نظر اسے چوم کر کرتے رو رو دعا تو ہو جاتا تھا فضل قادر خُدا که نانک بیچا جس سے وقت خطر اسی کا تو تھا مُعجزانہ اثر بیا آگ سے اور بیچا آپ سے اُسی کے اثر سے نہ اسباب سے ذرا دیکھو انگہ کی تحریر کو کہ لکھتا ہے اس ساری تقریر کو یہ پولہ ہے قدرت کا جلوہ کلام خدا اس پہ ہے جا بجا جو شائق ہے نانک کے درشن کا آج وہ دیکھے اسے۔چھوڑ کر کام و کاج پس گذرے ہیں چار سو کے قریب یہ ہے تو بہ کو اک کرامت عجیب یہ نان سے کیوں رہ گیا اک نشاں کھلا اس میں حکمت تھی کیا در نہاں یہی تھی کہ اسلام کا ہو گواہ بتا دے وہ پھلوں کو نائٹ کی راہ 20 20