درثمین مع فرہنگ — Page 10
سرائے خام دنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیں نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیں ہوتے ہیں زر کے ایسے کہ بس مر ہی جاتے ہیں جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں کیا کیا نہ اُن کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں پر اُن کو اس سیجن کی طرف کچھ نظر نہیں آنکھیں نہیں ہیں کان نہیں دل میں ڈر نہیں اُن کے طریق و دھرم میں گو لاکھ ہو فساد کیسا ہی ہو عیاں کہ وہ ہے جھوٹ اعتقاد پر تب بھی مانتے ہیں اُسی کو بہتر سبکب کیا حال کر دیا ہے تعصب نے ہے غَضَبْ دل میں مگر یہی ہے کہ مرنا نہیں کبھی ترک اس عیال و قوم کو کرنا نہیں کبھی اسے غافلاں وفا نہ کنڈ ہیں سرائے خام دنیائے دُول نماند و نماند یہ کس ندام سرمه چشم آریہ - صفه مطبوعه شانه / روحانی خزائن جلد ۲ ص ۱۳) 10