درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 183

پر مجھے رہ رہ کے آتا ہے تعب قوم سے کیوں نہیں وہ دیکھتے جو ہو رہا ہے آشکار شکر اللہ میری بھی آہیں نہیں خالی گئیں کچھ نہیں طاعوں کی صورت کچھ زلازان کے بخار اک طرف طاعون خُونی کھا رہا ہے ملک کو ہو رہے ہیں صد ہزاراں آدمی اس کا شکار دوسرے منگل کے دن آیا تھا ایسا زلزلہ جس سے اک محشر کا عالم تھا بصد شورو پکار ایک ہی دم میں ہزاروں اس جہاں سے چل دیتے جس قدر گھر گر گئے اُن کا کروں کیوں کہ شمار یا تو وہ عالی مکاں تھے زینت و زیب جلوس یا ہوتے اک ڈھیر انٹوں کے پر از گرد و غبار حشر جس کو کہتے ہیں اک دم میں برپا ہو گیا ہر طرف میں مرگ کی آواز تھی اور اضطرار دب گئے نیچے پہاڑوں کے کئی دیہات و شہر مر گئے لاکھوں بشر اور ہو گئے دنیا سے پار اس نشاں کو دیکھ کر پھر بھی نہیں ہیں زم دل پس خدا جانے کہ اب کس حشر کا ہے انتظار وہ ہو کہلاتے تھے صوفی کہیں میں سب سے بڑھ گئے کیا یہی عادت تھی شیخ غزنوی کی یادگار کہتے ہیں لوگوں کو ہم بھی تبدۃ الانبار ہیں؟ پڑتی ہے ہم پر بھی کچھ کچھ وحی وحمل کی چھوہارے پر وہی نا فہم گل اول الاعداء ہوئے آگیا چرخ بریں سے اُن کو تکفیروں کا تار نا ملهم 183