درثمین مع فرہنگ — Page ii
حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں :- اشعار میں اپنے مضامین کو بیان کرنے کی ہمیں ضرورت اس لیے پیش آئی ۔ کہ بعض طبائع اس قسم کی ہوتی ہیں ۔ کہ ان کو نشر عبارت میں ہزار پیرایہ لطیف میں کوئی صداقت بتائی جائے وہ نہیں سمجھتے۔ لیکن اسی مفہوم کو اگر ایک برجستہ شعر میں منظوم کر کے سنایا جائے۔ تو شعر کی لطافت ان پر بہت کچھ اثر کر جاتی ہے شعر کوسن کر پھڑک اٹھتے ہیں۔ اور حق کو شعر کے ذریعہ فوراً قبول کر لیتے ہیں ۔ اس کی مثال طبیب کے اس معالجہ جسمانی کی طرح ہے ۔ کہ جب طبیب دیکھتا ہے کہ مریض کو منہ کی راہ سے اب دوا مفید نہیں ہوگی ۔ تو پھر بیمار کے لئے حقنہ تجویز کرتا ہے ۔ اور اس ذریعہ سے بیمار کی قبض دور ہو جاتی ہے اور وہ صحت یاب ہو جاتا ہے۔ سو یہی حال ہمارے شعر و سخن کا ہے اور تجربہ سے دیکھا گیا ہے ۔ کہ بعض طبائع کے لئے مضامین شعریہ بہ نسبت مضامین نثر کے زیادہ زیاده موثمہ ثابت ہوتے ہیں ۔ اسی لئے قرآن شریف مقفی اور مسجع عبارت میں نازل ہوا ہے ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہمیں اشعار کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔ اکثر لوگوں کو بہت کچھ دلائل دے کر سمجھایا گیا مگر کار گمر نہ ہوئے۔ لیکن جب انہوں نے اشعار پڑھے ۔ تو یہ اشعار انہی منکرین پر بہت اثر کر گئے ۔ اور فوراً انہوں نے حق کو قبول کر لیا ۔ " رالحکم قادیان ۲۸ اگست ستمبر ۱۹۳۵ء صفحه ۲)