درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 154

ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اسے ناخُدا آگیا اس قوم پر وقت خزاں اندر بہار نور دل جاتا رہا اور مقتل موٹی ہو گئی اپنی کجرائی یہ سہر دل کر رہا ہے اعتبار پہ جس کو ہم نے قطرۂ صافی تھا سمجھا اور تقی غور سے دیکھا تو کیڑے اس میں بھی پانے ہزا دوربین معرفت سے گند نکلا ہر طرف اس وبا نے کھالئے ہر شاخ ایماں کے شمار اے خُدا بن تیرے ہو یہ آبپاشی کسی طرح جل گیا ہے بارغ تقویٰ دیں گی ہے اب اک مزار تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ فتنے کا قدم بڑھتا ہے ہر دم سیل وار راک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں اک نظر کہ اس طرف تا کچھ نظر آوے بہار کیا کہوں دنیا کے لوگوں کی کہ کیسے ہو گئے کسی قدر ہے حق سے نفرت اور ناحق سے پیار عقل پر پردے پڑے سو سو نشاں کو دیکھ کر نور سے ہو کر الگ چاہا کہ ہوویں اہلِ نار گر نہ ہوتی بد گمانی کفر بھی ہوتا فتا اس کا ہو دے ستیا ناس اس سے بگڑے ہوشیار بد گمانی سے تو رائی کے بھی بنتے ہیں پہاڑ پر کے اک یشہ سے ہو جاتی ہے کووں کی قطار حد سے کیوں بڑھتے ہو لوگو کچھ کر خوف خدا کیا نہیں تم دیکھتے نصرت خدا کی بار بار کیا خُدا نے اتقیاء کی عنون و نصرت چھوڑ دی ایک فاسق اور کافر سے وہ کیوں کرتا ہے پیار 154