درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 153

اے مرے پیارے خدا ہو تجھ پر مہر ذرہ میرا پھیر دے میری طرف اسے ساریاں جنگ کی مہار کچھ خبرے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے خاک میں ہوگا یہ سر گر تو نہ آیا بن کے یار فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کرمیری مو کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار میرے منظم دعیب سے اب کیجیے قطع نظر تا نہ خوش ہو دشمن دیں میں پیر سے لعنت کی مار میرے زخموں پر لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں میری فریادوں کوشن میں ہو گیا زار و نزار دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعف دین مصطفے مجھ کو کراسے میرے سلطاں کا میاب و کامگار کیا سلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مراد ؟ یہ تو تیرے پر نہیں اُمید اے میرے حصار! یا الہی فضل کر اسلام پر اور خود بچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سُن لے پیکار قوم میں فسق و فجور ومعصیت کا نور ہے چھا رہا ہے اور پیاس اور رات ہے تاریک تار ایک عالم مرگیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اب میرے مولیٰ اس طرف دریا کی دھار اب نہیں ہیں ہوش اپنے ان مصائب میں بجا رحم کر بندوں پر اپنے تا وہ ہو دیں رستگار کس طرح پیٹیں کوئی تدبیر، کچھ بنتی نہیں بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سُو ہر کنار 153