درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 149

مناجات اور تبلیغ حق اسے خدا اے کاری از وعیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسین مرے پروردگار کسی طرح تیرا کروں اسے ذوالمن تشکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے ہیں سے ہو یہ کاروبار بد گمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ کہ دیا <mark>دشمن</mark> کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار کام <mark>جو</mark> کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں سزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے باربار تیرے کلموں سے مجھے حیرت ہے اسے میرے کریم ! کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب و <mark>جو</mark>ار کرم خاکی ہوں مرے پیار سے نہ آ<mark>دم</mark> زاد ہوں ہوں بیشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خ<mark>دم</mark>ت گزار <mark>دوستی</mark> کا <mark>دم</mark> <mark>جو</mark> <mark>بھرتے</mark> تھے وہ سب <mark>دشمن</mark> <mark>ہوئے</mark> پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے مرے حاجت برار کے مرے یار یگانہ اسے مری جاں کی پسند بس سے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن کبکار 149