درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 128

کیوں زندگی کی چال بھی فاستقانہ ہے کچھ اک نظر کرو کہ یہ کیسا زمانہ ہے اس کا سبب یہی ہے کہ غفلت ہی چھا گئی دنیائے دُوں کی دل میں محبت سما گئی تقوی کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے ہر دم کے خُبث و فیق سے دل پر پڑے حجاب آنکھوں سے اُن کی چُھپ گیا ایماں کا آفتاب 3 جس کو خدائے عزوجل پر یقین نہیں اُس بدنصیب شخص کا کوئی بھی دیں نہیں پر وہ سعید جو کہ نشانوں کو پاتے ہیں دہ اس سے مل کے دل کو اُسی سے ملاتے ہیں وہ اس کے ہو گئے ہیں اُسی سے وہ جیتے ہیں ہر دم اُسی کے ہاتھ سے اک جام پیتے ہیں جس کے کو پی لیا ہے وہ اُس کے سے مست ہیں سب دشمن اُن کے اُن کے مقابل میں کپست ہیں 128