درثمین مع فرہنگ — Page 127
کوئی بتاتے ہم کو کہ غیروں میں یہ کہاں قصوں کی چاشنی میں حلاوت کا کیا نشاں یہ ایسے مذہبوں میں کہاں ہے دکھائیے گزاف قصوں پہ ورنہ ہر گز نہ جائیے سے کہ کہ قصے ہو گئے مقصود راہ میں دم گناہ میں آگے قدم ہے قوم کا تم دیکھتے ہو قوم میں عفت نہیں رہی ده صدق ، وه صفا ، وُہ طہارت نہیں رہی مومن کے جو نشاں ہیں وہ حالت نہیں رہی اُس یار بے نشاں کی محبت نہیں رہی لاک سیل چل رہا ہے گناہوں کا زور سے سُنتے نہیں ہیں کچھ بھی معاصی کے شور سے کیوں بڑھ گئے زمیں پر بڑے کام اس قدر بُرے کیوں ہو گئے عزیزو ! یہ سب لوگ کور وکر کیوں اب تمھارے دل میں وہ صدق وصفا نہیں کیوں اس قدر ہے رفیق کہ خوف و حیا نہیں 127