درثمین مع فرہنگ — Page 113
وہ گھڑی آتی ہے جب میلے پکاریں گے مجھے اب تو تھوڑے رہ گئے دنبال کہلانے کے دن آے مرے پیارے ! یہی میری دعا ہے روز و شب گود میں تیری ہوں ہم اس خون دل کھانے کے دن رکرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں فضل کا پانی پلا اس آگ برسانے کے دن اسے مرے یار یگانہ ! اسے مری جاں کی پناہ ! کہ وہ دن اپنے کرم سے دیں کے پھیلانے کے دن پھر بہار دیں کو دکھلا کے میرے پیارے قدیر کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن دن چڑھا ہے دُشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج دکھا اس دیں کے چمکانے کے دن دل گھٹا جاتا ہے ہر دم جاں بھی ہے زیر و زیر اک نظر فرما که جلد آئیں ترے آنے کے دن چہرہ دکھلا کر مجھے کر دیجئے غم سے رہا کب تلک لمبے چلے جائیں گے ترسانے کے دن 113