درثمین مع فرہنگ — Page 107
جب اس نے اُن کی گنتی بھی نہ جانی کہاں من من کا ہو انتر گیانی اگر آگے کو پیدائش ہے سب بند تو پھر سوچو ذرا ہو کے خردمند کہ جس دم پا گئی ممکتی ہر اک جہاں تو پھر کیا رہ گیا ایشر کا ساماں کہاں سے لائے گا وہ دوسری روح که تا قدرت کا ہو پھر باب مفتوح غرض جب سب نے اس محنتی کو پایا تو ایشر کی ہوئی سب ختم مایا تنسیخ اُڑ گیا آئی قیامت کرد کچھ فکر اب حضرت سلامت عزیزد کچھ نہیں اس بات میں جاں اگر کچھ ہے تو دکھلاؤ یہ میراں بہت ہم نے بھی اس میں زور مارا خیاکستان کو جانچا ہے سارا مگر ملتی نہیں کوئی بھی بڑیاں بھلا بیچ کس طرح ہو جائے بہتاں نہ ہوگا کوئی ایسا مت نہیں پر کہ یہ باتیں کہے جاں آفریں پر دعا کرتے رہو ہر دم پیاو ہدایت کے لئے حق کو پکارو دُعا کرنا عجب نعمت ہے پیارے دُعا سے آگے کشتی کنارے اگر اس نخل کو طالب لگائے تو اک دن ہو رہے برتھا نہ جائے ہمارا کام تھا وغط و منادی سو ہم سب کرچکے واللہ نادی الواقع مرزا غلام احمد رئیس قادیان الثامن من الشهر المبارك الحرم بارك الله بحي المومنين با يجرى المقدس على صاحبه الصلوة والسلام منشور محمدی بنگلور شاء مطابق دار ربیع الثانی ۱۳۹) الحكم جلد ۷ - ۲۸ مئی ۱۹۴۷ء والفضل (۱۸ جنوری ۶۱۹۶۳ 107