درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 101

جب سے ملا وہ دلبر دشمن ہیں میرے گھر گھر دل ہو گئے ہیں پتھر قدر و قضا ہی ہے مجھ کو ہیں وہ ڈراتے پھر پھر کے در پہ آتے تیغ و تبر دکھاتے۔ہر سُو ہوا یہی ہے دلیر کی رہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے ہشیار ساری دنیا راک پاؤلا ہی ہے اس رہ میں اپنے تھے تم کو میں کیا سناؤں دکھ درد کے ہیں جھگڑے سب ماجرا ہی ہے دل کر کے پارہ پارہ چاہوں میں اک نظارہ دیوانه مت کہو تم متصل ایسا ہی۔اے میرے یار جانی ! کر خود ہی مہربانی مت کہہ کہ لن ترانی تجھ سے رہا نہیں ہے فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم میں جاں گئی ہے عاشق جہاں پہ مرتے وہ کربلا یہی ہے تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب دُوری طاعت بھی ہے اُدھوری ہم پر بلا یہی ہے 101