درثمین مع فرہنگ — Page 96
اسلام کے محاسن کیونکر بیاں کروں میں سب خشک باغ دیکھے پھولا پچھلا ہی ہے ہر جا زمیں کے کیڑے دیں کے ہوئے ہیں دشمن اسلام پر خدا سے آج ابتلا یہی ہے تھم جاتے ہیں کچھ آنسو یہ دیکھ کر کہ ہر سُو راس غم سے صادقوں کا آہ و بکا یہی ہے سب مشرکوں کے سر پر یہ دیں ہے ایک خنجر یہ شرک سے چھڑاوے اُن کو اذی ہی ہے کیوں ہو گئے ہیں اس کے دشمن یہ سارے گمرہ وہ رہنمائے راز چون و چرا یہی ہے ردیں غار میں چھپا ہے راک شور کفر کا ہے اب تم دعائیں کر لو غار حرا یہی ہے وه پیشوا ہمارا جس سے ہے سے ہے نور تارا ورم نام اس کا ہے محمد دلبر مرا ہی ہے سب پاک ہیں پیمبر راک دور سے بہتر لیک از خدا تے کر کر خیر انوری یہی ہے 96