دُرِّثمین اُردو — Page 63
۶۳ محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے جو مرتا ہے وہی زندوں میں جاوے جو جلتا ہے وہی مُردے جلاوے ہے ڈور کا کب غیر کھاوے چلو اوپر کو نیچے نہ آوے وہ نہاں اندر نہاں ہے کون لاوے غریق عشق موتی اُٹھاوے وہ وہ دیکھے نیستی رحمت دکھاوے خودی اور خود روی کب اُسکو بھاوے مجھے تو نے دولت اے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي کہاں تک حرص و شوقِ مالِ فانی! اُٹھو ڈھونڈو متاع آسمانی کہاں تک جوش آمال و آمانی یہ سو سو چھید ہیں تم میں نہانی تو پھر کیونکر ملے وہ یار جانی کہاں غر بال میں رہتا ہے پانی کرو کچھ فکر ملک جاودانی ملک و مال چھوٹی مال جُھوٹی ہے کہانی بسر کرتے ہو غفلت میں جوانی مگر دل میں یہی تم نے ہے ٹھانی