دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 52

۵۲ معرفت حق آواز آرہی ہے یہ فونوگراف سے ڈھونڈ وخدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے جب تک عمل نہیں ہے دل پاک وصاف سے کمتر نہیں یہ مشغلہ بُت کے طواف سے باہر نہیں اگر دل مردہ غلاف سے حاصل ہی کیا ہے جنگ و جدال و خلاف سے وہ دیں ہی کیا ہے جس میں خدا سے نشاں نہ ہو تائید حق نہ ہو مدد آسماں نہ ہو مذہب بھی ایک کھیل ہے جب تک یقیں نہیں جو نور سے تہی ہے خدا سے وہ دیں نہیں دین خدا وہی ہے جو دریائے نور ہے جو اس سے دُور ہے وہ خدا سے بھی دُور ہے دین خدا وہی ہے جو ہے وہ خدا نما کس کام کا وہ دیں جو نہ ہووے گرہ کشا جن کا یہ دیں نہیں ہے نہیں اُن میں کچھ بھی دم دُنیا سے آگے ایک بھی چلتا نہیں قدم وہ لوگ جو کہ معرفت حق میں خام ہیں بت ترک کر کے پھر بھی بُتوں کے غلام ہیں 000 اخبار الحکم ۲۴ نومبر ۱۹۰۱ء