دُرِّثمین اُردو — Page 174
۱۷۴ آسماں پر شور ہے پر کچھ نہیں تم کو خبر دن تو روشن تھا مگر ہے بڑھ گئی گرد و غبار اک نشاں ہے آنیوالا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھا ئیں گے دیہات و شہر اور مرغزار آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک بر ہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باند ھے ازار یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھا ئینگے کہ کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیروز بر نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آپ رود بار رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگِ یا سمن صبح کر دے گی انہیں مثل درختان چنار تاریخ امروزه ۱۵ر پریل ۱۹۰۵ء خدا تعالیٰ کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہوگا جو نمونہ قیامت ہوگا بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہیے جس کی طرف سورۃ اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا اشارہ کرتی ہے لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلا دے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو۔اور جانوروں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ہاں اگر ایسا فوق العادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں میں کا ذب ٹھہروں گا۔مگر میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ یه شدید آفت جس کو خدا تعالیٰ نے زلزلہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے صرف اختلاف مذہب پر کوئی اثر نہیں رکھتی اور نہ ہند و یا عیسائی ہونیکی وجہ سے کسی پر عذاب آ سکتا ہے اور نہ اس وجہ سے آ سکتا ہے کہ کوئی میری بیعت میں داخل نہیں۔یہ سب لوگ اس تشویش سے محفوظ ہیں۔ہاں جو شخص خواہ کسی مذہب کا پابند ہو جرائم پیشہ ہونا اپنی عادت رکھے اور فسق و فجور میں غرق ہو اور زانی، خونی، چور ، ظالم اور ناحق کے طور پر بداندیش، بد زبان اور بد چلن ہو اُس کو اس سے ڈرنا چاہیئے اور اگر تو بہ کرے تو اُس کو بھی کچھ غم نہیں اور مخلوق کے نیک کردار اور نیک چلن ہونے سے یہ عذاب ٹل سکتا ہے۔قطعی نہیں ہے۔منہ