دُرِّثمین اُردو — Page 163
۱۶۳ مغز فرقانِ مطہر کیا یہی ہے زُہد خشک کیا یہی چوہا ہے نکلا کھود کر یہ کوہسار گر یہی اسلام ہے بس ہو گئی اُمت ہلاک رکس طرح رہ مل سکے جب دیں ہی ہو تاریک و تار مُنہ کو اپنے کیوں بگاڑانا اُمیدوں کی طرح فیض کے در کھل رہے ہیں اپنے دامن کو پسپار رکس طرح کے تم بشر ہو دیکھتے ہو صد نشاں پھرو ہی ضِد و تعصب اور وہی کین و نقار بات سب پوری ہوئی پر تم وہی ناقص رہے باغ میں ہو کر بھی قسمت میں نہیں دیں کے شمار دیکھ لو وہ ساری باتیں کیسی پوری ہو گئیں جن کا ہونا تھا بعید از عقل وفہم و افتکار اُس زمانہ میں ذرا سوچو کہ میں کیا چیز تھا جس زمانہ میں براہیں کا دیا تھا اِشتہار پھر ذرا سوچو کہ اب چرچا مرا کیسا ہوا کس طرح سرعت سے شہرت ہوگئی در ہر دیار جانتا تھا کون کیا عزت تھی پبلک میں مجھے کس جماعت کی تھی مجھ سے کچھ ارادت یا پیار تھے رجوع خلق کے اسباب مال و علم و حکم خاندانِ فقر بھی تھا باعث عز و وقار ایک ان چاروں سے میں محروم تھا اور نے نصیب ایک انساں تھا کہ خارج از حساب و از شمار پھر رکھایا نام کافر ہو گیا مطعُونِ خلق کفر کے فتووں نے مجھ کو کر دیا بے اعتبار اس پر بھی میرے خدا نے یاد کر کے اپنا اقول مرجع عالم بنایا مجھ کو اور دیں کا مدار سارے منصوبے جو تھے میری تباہی کیلئے کر دیئے اُس نے تبکہ جیسے کہ ہو گرد و غبار سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے کوئی بتلائے نظیر اس کی اگر کرنا ہے وار