دُرِّثمین اُردو — Page 156
۱۵۶ قدرت رحمان و مکر آدمی میں فرق ہے جو نہ سمجھے وہ نجمی از فرق تاپا ہے حمار سوچ لوالے سوچنے والو کہ اب بھی وقت ہے راہ حرماں چھوڑ دو رحمت کے ہو اُمیدوار سوچ لو یہ ہاتھ کس کا تھا کہ میرے ساتھ تھا کس کے فرماں میں مقصد پا گیا اور تم ہوخوار سی بھی کچھ ایماں ہے یارو ہم کو سمجھائے کوئی جس کا ہر میداں میں پھل حرماں ہے اور ذلت کی مار غل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجال ہے میر تقع خود رکھتا ہوں اُن کے دیں اور ایماں سے مار گر یہی دیں ہے جو ہے ان کی خصائل سے عیاں میں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار جان و دل سے ہم شار ملت اسلام ہیں لیک دیں وہ رہ نہیں جس پر چلیں اہلِ نقار واہ رے جوشِ جہالت خوب دکھلائے ہیں رنگ جھوٹ کی تائید میں حملے کریں دیوانہ وار نازمت کر اپنے ایماں پر کہ یہ ایماں نہیں اس کو ہیر امت گماں کر ہے یہ سنگِ کو ہسار پیٹنا ہوگا دو ہاتھوں سے کہ ہے ہے مرگئے جبکہ ایماں کے تمہارے گند ہوں گے آشکار ہے یہ گھر گرنے پہ آکے مغرور لے جلدی خبر تا نہ دب جائیں ترے اہل وعیال و رشتہ دار یہ عجب بد قسمتی ہے کس قدر دعوت ہوئی پر اترتا ہی نہیں ہے جام غفلت کا خمار ہوش میں آتے نہیں سو سو طرح کوشش ہوئی ایسے کچھ سوئے کہ پھر ہوتے نہیں ہیں ہوشیار دن بُرے آئے اکٹھے ہوگئے قحط و و با اب تلک تو بہ نہیں اب دیکھئے انجام کار ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار