دُرِّثمین اُردو — Page 155
۱۵۵ گر دیا ہو سوچ کر دیکھیں کہ یہ کیا راز ہے وہ مری ذلت کو چاہیں پا رہا ہوں میں وقار کیا بگاڑا اپنے مکروں سے ہمارا آج تک اثر دہا بن بن کے آئے ہو گئے پھر سُوسمار اے فقیہو عالمو! مجھ کو سمجھ آتا نہیں یہ نشانِ صدق پا کر پھر یہ کہیں اور یہ نقار صدق کو جب پایا اصحاب رسول اللہ نے اُس پہ مال و جان و تن بڑھ بڑھ کے کرتے تھے نثار پھر عجب یہ علم یہ تنقید آثار و حدیث دیکھ کر سو سو نشاں پھر کر رہے ہو تم فرار بحث کرنا تم سے کیا حاصل اگر تم میں نہیں رُوحِ انصاف و خدا ترسی کہ ہے دیں کا مدار کیا مجھے تم چھوڑتے ہو جاہ دنیا کے لئے جاہِ دُنیا کب تلک دُنیا ہے خود ناپائیدار کون در پر وہ مجھے دیتا ہے ہر میداں میں فتح کون ہے جو تم کو ہر دم کر رہا ہے شرمسار تم تو کہتے تھے کہ یہ نابود ہو جائے گا جلد یہ ہمارے ہاتھ کے نیچے ہے اک ادنی شکار بات پھر یہ کیا ہوئی کس نے مری تائید کی خائب و خاسر رہے تم، ہو گیا میں کامگار اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیاں بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیر غار کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا معتقد لیکن اب دیکھو کہ چر چا کس قدر ہے ہر کنار اُس زمانہ میں خدا نے دی تھی شہرت کی خبر جو کہ اب پوری ہوئی بعد از مرور روزگار کھول کر دیکھو برا ہیں جو کہ ہے میری کتاب اس میں ہے یہ پیشگوئی پڑھ لواُس کو ایک بار اب ذرہ سوچو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے اس قدر امر نہاں پر کسی بشر کو اقتدار