دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 154

۱۵۴ انبیاء کے طور پر حجت ہوئی ان پر تمام ان کے جو حملے ہیں ان میں سب نبی ہیں حصہ دار میری نسبت جو کہیں کہیں سے وہ سب پر آتا ہے چھوڑ دینگے کیا وہ سب کو کفر کر کے اختیار مجھ کو کا فرکہے کے اپنے کفر پر کرتے ہیں مہر یہ تو ہے سب شکل ان کی ہم تو ہیں آئینہ دار ساتھ ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی سال ہے اب تنیسواں دعوی پہ از روئے شمار تھا برس چالیس کا میں اس مسافرخانہ میں جبکہ میں نے وحی ربانی سے پایا افتخار اس قدر یہ زندگی کیا افترا میں کٹ گئی پھر عجب تریہ کہ نصرت کے ہوئے جاری بکار ہر قدم میں میرے مولیٰ نے دیئے مجھ کو نشاں ہر عدو پر حجت حق کی پڑی ہے ذوالفقار نعمتیں و ہ دیں مرے مولیٰ نے اپنے فضل سے جن سے ہیں معنی أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمُ آشکار سایہ بھی ہو جائے ہے اوقات ظلمت میں جدا پر رہاؤہ ہر اندھیرے میں رفیق و غمگسار اس قدر نصرت تو کا ذب کی نہیں ہوتی کبھی گر نہیں باور نظیریں اس کی تم لاؤ دو چار پھر اگر ناچار ہو اس سے کہ دو کوئی نظیر اس مہیمن سے ڈرو جو بادشاہ ہر دودار یہ کہاں سے سُن لیا تم نے کہ تم آزاد ہو کچھ نہیں تم پر عقوبت گو کرو عصیاں ہزار نعرة إِنَّا ظَلَمْنَا سُنّتِ ابرار ہے زہر منہ کی مت دکھاؤ تم نہیں ہونسل مار جسم کو مل مل کے دھونا یہ تو کچھ مشکل نہیں دل کو جو دھووے وہی ہے پاک نزد کر دگار اپنے ایماں کو ذرا پردہ اُٹھا کر دیکھنا مجھ کو کافر کہتے کہتے خود نہ ہوں از اہلِ نار