دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 152

۱۵۲ سرسے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے کہاں اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار کیا کروں تعریف حُسنِ یار کی اور کیا لکھوں اک ادا سے ہو گیا میں سیلِ نفسِ دُوں سے پار اس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافر ہو گیا آنکھ میں اسکی کہ ہے وہ دُور تر از صحن یار اُس رخ روشن سے میری آنکھ بھی روشن ہوئی ہو گئے اسرار اُس دلبر کے مجھ پر آشکار قوم کے لوگو! ادھر آؤ کہ نکلا آفتاب وادئ ظلمت میں کیا بیٹھے ہو تم لیل و نہار کیا تماشا ہے کہ میں کافر ہوں تم مومن ہوئے پھر بھی اس کافر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار کیا ابھی بات ہے کافر کی کرتا ہے مدد وہ خدا جو چاہیئے تھا مومنوں کا دوستدار اہل تقویٰ تھا کرم دیں بھی تمہاری آنکھ میں جس نے ناحق ظلم کی رہ سے کیا تھا مجھ پہ وار بے معاون میں نہ تھا تھی نصرت حق میرے سا تھ فتح کی دیتی تھی وحی حق بشارت بار بار پر مجھے اُس نے نہ دیکھا آنکھ اُس کی بند تھی پھر سزا پا کر لگایا سرمه دنباله دار نام بھی کذاب اس کا دفتروں میں رہ گیا اب مٹا سکتا نہیں یہ نام تا روز شمار اب کہو کس کی ہوئی نصرت جناب پاک سے کیوں تمہارا متقی پکڑا گیا ہو کر کے خوار پھر ادھر بھی کچھ نظر کرنا خدا کے خوف سے کیسے میرے یار نے مجھ کو بچایا بار بار قتل کی ٹھانی شریروں نے چلائے تیر مکر بن گئے شیطاں کے چیلے اور نسلِ ہونہار پھر لگا یا ناخنوں تک زور بن کر اک گروہ پر نہ آیا کوئی بھی منصوبہ اُن کو ساز وار ہم جگہ میں ان کی دجال اور بے ایماں ہوئے آتش تکفیر کے اُڑتے رہے پیہم شرار