دُرِّثمین اُردو — Page 138
۱۳۸ الزام مجھ پہ قتل کا تھا سخت تھا یہ کام تھا ایک پادری کی طرف سے یہ اتہام جتنے گواہ تھے وہ تھے سب میرے برخلاف اک مولوی بھی تھا جو یہی مارتا تھا لاف دیکھو! یہ شخص اب تو سزا اپنی پائے گا اب دن سزائے سخت یہ بچ کر نہ جائے گا اتنی شہادتیں ہیں کہ اب کھل گیا قصور اب قید یا صلیب ہے، اک بات ہے ضرور بعضوں کو بددعا میں بھی تھا ایک انہماک اتنی دُعا کہ گھس گئی سجدے میں اُن کی ناک القصہ جُہد کی نہ رہی کچھ بھی انتہا اک سو تھا مگر ایک طرف سجدہ و دُعا آخر خدا نے دی مجھے اس آگ سے نجات دشمن تھے جتنے اُن کی طرف کی نہ التفات کیسا یہ فضل اس سے نمودار ہو گیا اک مفتری کا وہ بھی مددگار ہو گیا