دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 28

۲۸ مگر کوئی معشوق ایسا نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں خدا پر کہ وہ تو پھر یہ گماں عیب ہے راحم و عالم الغیب ہے اگر وہ نہ بولے تو کیونکر کوئی یقیں کر کے جانے کہ ہے مُختفى وہ کرتا ہے خود اپنے بھگتوں کو یاد کوئی اُس کے رہ میں نہیں نامراد مگر وید کو اس سے انکار ہے اسی سے تو بے خیر و بے کار ہے کرے کوئی کیا ایسے طومار کو بلا کر دکھاوے نہ جو یار کو وہ ویدوں کا ایشر ہے یا اک حجر کہ بولے نہیں جیسے اک گنگ و گز تو پھر ایسے ویدوں سے حاصل ہی کیا ذرا سوچو اے یارو بہر خدا ! وہ انکار کرتے ہیں الہام سے که ممکن نہیں خاص اور عام سے یہی سالکوں کا تو تھا مدعا اسی سے تو کھلتی تھیں آنکھیں ذرا یہ نہیں پھر تو وہ مر گئے کہ بے سُود جاں کو فدا کر گئے یہ ویدوں کا دعویٰ سنا ہے ابھی کہ بعد اُن کے ملہم نہ ہو گا کبھی وہ کہتے ہیں یہ کوچہ مسدود ہے تلاش اس کی عارف کو بے سود ہے وہ غافل ہیں رحماں کے اُس داب سے کہ رکھتا کہ رکھتا ہے وہ اپنے احباب سے اگر اُن کو اس رہ سے ہوتی خبر اگر صدق کا کچھ بھی رکھتے اثر تو انکار کو جانتے جائے شرم یہ کیا کہہ دیا وید نے ہائے شرم !