دُرِّثمین اُردو — Page 179
۱۷۹ بے خدا اس وقت دنیا میں کوئی مامن نہیں یا اگر ممکن ہو اب سے سوچ لو راہِ فرار تم سے غائب ہے مگر میں دیکھتا ہوں ہر گھڑی پھرتا ہے آنکھوں کے آگے وہ زماں وہ روزگار گر کرو تو بہ تو اب بھی خیر ہے کچھ غم نہیں تم تو خود بنتے ہو قہر ڈوالیمین کے خواستگار وہ خدا حلم و تفضّل میں نہیں رکھتا نظیر کیوں پھرے جاتے ہواُس کے حکم سے دیوانہ وار میں نے روتے روتے سجدہ گاہ بھی تر کر دیا پر نہیں ان خشک دل لوگوں کو خوف کردگار یا الہی اک نشاں اپنے کرم سے پھر دکھا گردنیں جھک جائیں جس اور مکذب ہوں خوار اک کرشمہ سے دکھا اپنی وہ عظمت کے قدیر جس سے دیکھے تیرے چہرے کو ہر اک غفلت شعار تیری طاقت سے جو منکر ہیں انہیں اب کچھ دیکھا پھر بدل دے گلشن و گلزار سے یہ دشت خار زور سے جھٹکے اگر کھاوے زمیں کچھ غم نہیں پر کسی ڈھب سے تزلزل سے ہو ملت رستگار دین و تقوی گم ہوا جاتا ہے یا رب رحم کر بے بسی سے ہم پڑے ہیں کیا کریں کیا اختیار میرے آنسو اس غم دل سوز سے تھمتے نہیں دیں کا گھر ویراں ہے اور دُنیا کے ہیں عالی منار دیں تو اک نا چیز ہے دُنیا ہے جو کچھ چیز ہے آنکھ میں اُن کی جو ر کھتے ہیں زر وعز و وقار جس طرف دیکھیں وہیں اک دہریت کا جوش ہے دیں سے ٹھٹھا اور نماز وں روزوں سے رکھتے ہیں عار جاہ و دولت سے یہ زہریلی ہوا پیدا ہوئی موجب نخوت ہوئی رفعت کہ تھی اک زہر مار ہے بلندی شان ایزدگر بشر ہو وے بلند فخر کی کچھ جا نہیں وہ ہے متاعِ مُستعار ایسے مغروروں کی کثرت نے کیا دیں کو تباہ ہے یہی غم میرے دل میں جس سےہوں میں دلفگار اے مرے پیارے مجھے اس سیل غم سے کر رہا ور نہ ہو جائے گی جاں اس درد سے تجھ پر شار از نوٹ بک حضرت مسیح موعود علیہ السلام