دُرِّثمین اُردو — Page 95
۹۵ اے میرے یار جانی! خود کر تو مہربانی ور نہ بلائے دُنیا اک اژدھا یہی ہے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چُوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے جلد آمرے سہارے غم کے ہیں بوجھ بھارے منہ مت چھپا پیارے میری دوا یہی ہے کہتے ہیں جوشِ اُلفت یکساں نہیں ہے رہتا دل پر مرے پیارے ہر دم گھٹا یہی ہے ہم خاک میں ملے ہیں شاید ملے وہ دلبر جیتا ہوں اس ہوس سے میری غذا یہی دُنیا میں عشق تیرا باقی ہے سب اندھیرا ہے معشوق ہے تو میرا عشق صفا یہی ہے غبار اپنا تیرے لئے اُڑایا جب سے سُنا کہ شرط مہر و وفا یہی ہے دلبر کا درد آیا حرف خودی مٹایا جب میں مرا جلایا جامِ بقا یہی ہے