دُرِّثمین اُردو — Page 87
۸۷ پھر کس طرح وہ مانیں تعلیم پاک فرقاں اُن کے تو دِل کا رہبر اور مقتدا یہی ہے بقیه حاشیه صفحه نمبر ۸۶ بیوی کو اجازت دے کہ وہ دوسرے سے ہم بستر ہو اور اس طرح اپنی نجات کے لئے لڑکا حاصل کرے اور گیارہ لڑکے حاصل کرنے تک یہ تعلق قائم رہ سکتا ہے اور اس کا خاوند کہیں سفر میں گیا ہو تو خود اس کی بیوی نیوگ کی نیت سے کسی دوسرے آدمی سے آشنائی کا تعلق پیدا کر سکتی ہے تا اِس طریق سے اولا د حاصل کرے اور پھر خاوند کے سفر سے واپس آنے پر یہ تحفہ اس کے آگے پیش کرے اور اُس کو دکھاوے کہ تُو تو مال حاصل کرنے گیا تھا، مگر میں نے تیرے پیچھے یہ مال کمایا ہے۔پس عقل اور غیرت انسانی تجویز نہیں کر سکتی کہ یہ بے شرمی کا طریق جائز ہو سکے۔اور کیونکر جائز ہو؟ حالانکہ اس بیوی نے خاوند سے طلاق حاصل نہیں کی اور اس کی قید نکاح سے اُس کو آزادی حاصل نہیں ہوئی۔افسوس بلکہ ہزار افسوس کہ یہ وہ باتیں ہیں جو آریہ لوگ وید کی طرف منسوب کرتے ہیں، مگر ہم نہیں کہہ سکتے کہ در حقیقت یہی تعلیم وید کی ہے۔ممکن ہے ہندوؤں کے بعض جو گی جو مجر درہتے ہیں اور اندر ہی اندر نفسانی جذبات ان کو مغلوب کر لیتے ہیں اُنہوں نے یہ باتیں خود بنا کر وید کی طرف منسوب کردی ہوں یا تحریف کے طور پر ویدوں میں شامل کر دی ہوں، کیونکہ محقق پنڈتوں نے لکھا ہے کہ ایک زمانہ دیدوں پر وہ بھی آیا ہے کہ ان میں بڑی تحریف کی گئی ہے اور ان کے بہت سے پاک مسائل بدلا دیئے گئے ہیں، ورنہ عقل قبول نہیں کرتی کہ وید نے ایسی تعلیم دی ہو اور نہ کوئی فطرت صحیحہ قبول کرتی ہے کہ ایک شخص اپنی پاکدامن بیوی کو بغیر اس کے کہ اس کو طلاق دے کر شرعی طور پر اُس سے قطع تعلق کرے۔یونہی اولاد حاصل کرانے کے لئے اپنے ہاتھ دوسرے سے ہم بستر کرا دے۔کیونکہ یہ تو دیونوں کا کام ہے۔ہاں اگر کسی عورت نے طلاق حاصل کر لی ہو اور خاوند سے اس کا کوئی تعلق نہ رہا ہو تو اس صورت میں ایسی عورت کے لئے جائز ہے کہ دوسرے سے نکاح کرے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ اس کی پاکدامنی پر حرف ، ورنہ ہم بلند آواز سے کہتے ہیں کہ نیوگ کا نتیجہ اچھا نہیں ہے۔جس صورت میں آریہ سماج کے لوگ ایک طرف تو عورت کے پردہ کے مخالف ہیں کہ یہ مسلمانوں کی رسم ہے۔پھر دوسری طرف جبکہ ہر روز نیوگ کا ”پاک“ مسئلہ ان عورتوں کے کانوں تک پہنچتا رہتا