دُرِّثمین اُردو — Page 39
۳۹ محمود کی آمین حمدوثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں میرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي ہے پاک پاک قدر عظمت ہے اس کی عظمت لرزاں ہیں اہل قربت کت و بیوں پہ ہیبت ہے عام اس کی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اس کی صنعت اس سے کرو محبت غیروں سے کرنا اُلفت کب چاہے اس کی غیرت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي جو کچھ میں راحت سب اس کی نجود و منت اُس سے ہے دل کو بیعت دل میں ہے اس کی عظمت بہتر ہے اُس کی طاعت، طاعت میں ہے سعادت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا اُس بن نہیں گزارا غیر اُس کے جھوٹ سارا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي