دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 29

۲۹ نہ جانا کہ الہام ہے کیمیا اسی سے تو ملتا ہے سنج لقاء اسی سے تو عارف ہوئے بادہ نوش اسی سے تو آنکھیں کھلیں اور گوش یہی ہے کہ نائب ہے دیدار کا یہی ایک چشمہ ہے اسرار کا اسی سے ملے اُن کو نازک علوم اسی سے تو اُنکی ہوئی جگ میں دھوم خدا پر خدا سے یقیں آتا ہے وہ باتوں سے ذات اپنی سمجھاتا ہے کوئی یار سے جب لگاتا ہے دل تو باتوں تو باتوں سے لذت اُٹھاتا ہے دل کہ دلدار کی بات ہے اک غذا اک غذا مگر تو مگر تو ہے منکر تجھے اس سے کیا نہیں تجھ کو اس رہ کی کچھ بھی خبر تو واقف نہیں اس سے اے بے ہنر ! وہ ہے مہربان و کریم و قدیر قسم اُس کی ! اُس کی نہیں ہے نظیر جو ہوں دل سے قربانِ ربّ جلیل نہ نقصاں اُٹھاویں نہ ہوویں ذلیل اسی سے تو نانک ہوا کامیاب کہ دل سے تھا قربان عالی جناب بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں یقیں ہے کہ نانک تھا ملہم ضرور نہ کر وید کا پاس اے پرغرور! دیا اس کو کرتار نے وہ گیان اکیلا وہ گیان کہ ویدوں میں اُس کا نہیں کچھ نشان بھاگا ہنودوں کو چھوڑ مکہ کو ہند سے منہ کو موڑ گیا خانہ کعبہ کا کرنے طواف مسلماں بنا پاک دل بے خلاف