دُرِّثمین اُردو — Page 14
۱۴ وفات مسیح ناصری وہ نہیں باہر رہا اموات سے کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال؟ دل میں اُٹھتا ہے مرے سو سو اُبال ابن مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم مارتا ہے اُس کو فرقاں سربسر اُس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر ہو گیا ثابت یہ تمیں آیات سے کوئی مردوں سے کبھی آیا نہیں یہ تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں عہد شد از کردگار بے چگوں غورگن در أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ اے عزیزو! سوچ کر دیکھو ذرا موت سے بچتا کوئی دیکھا بھلا؟ یہ تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں چل بسے سب انبیاء و راستاں ہاں نہیں پاتا کوئی اس سے نجات یوں ہی باتیں ہیں بنائیں واہیات کیوں تمہیں انکار پر اصرار ہے ہے یہ دیں یا سیرتِ کفار ہے برخلاف نص یہ کیا جوش ہے سوچ کر دیکھو اگر کچھ ہوش ہے کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا کیوں بنایا اُس کو باشان کبیر غیب دان و خالق و حتی و قدیر مر گئے سب پر وہ مرنے سے بچا اب تلک آئی نہیں اس پر فنا