دُرِّثمین اُردو — Page 175
۱۷۵ (بلبل) ہوش اڑ جائیں گے انسان کے بندوں کے حواس بھولیں گے نظموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ہر مُسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی راہ کو کھولیں گے ہو کر مست و بیخود راہوار خون سے مُردوں کے کوہستان کے آپ رواں سُرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار مضمحل ہو جا ئینگے اس خوف سے سب جن وانس زار بھی ہوگا تو ہوگا اُس گھڑی باحال زار اک نمونہ قہر کا ہوگا وہ ربانی نشاں آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار ނ ہاں نہ کر جلدی آنکاراے سفیہ ناشناس اس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دار و مدار وجي حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا کچھ دنوں کر صبر ہو کر منتفی اور بردبار یہ گماں مت کر کہ یہ سب بد گمانی ہے معاف قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا اُدھار 000 براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۷۔مطبوعہ ۱۹۰۸ء