دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 173

۱۷۳ دوسرے منگل کے دن آیا تھا ایسا زلزلہ جس سے اک محشر کا عالم تھا بصد شور و پکار ایک ہی دم میں ہزاروں اس جہاں سے چل دیئے جس قدر گھر گر گئے اُن کا کروں کیونکر شمار یا تو وہ عالمی مکاں تھے زینت و زیپ جلوس یا ہوئے اک ڈھیرا نیٹوں کے پُر از گردوغبار حشر جس کو کہتے ہیں اک دم میں برپا ہو گیا ہر طرف میں مرگ کی آواز تھی اور اضطرار دب گئے نیچے پہاڑوں کے کئی دیہات و شہر مر گئے لاکھوں بشر اور ہو گئے دُنیا سے پار اس نشاں کو دیکھ کر پھر بھی نہیں ہیں نرم دل پس خدا جانے کہ اب کس حشر کا ہے انتظار وہ جوکہلاتے تھے صوفی کہیں میں سے بڑھ گئے کیا یہی عادت تھی شیخ غزنوی کی یادگار کہتے ہیں لوگوں کو ہم بھی زبدۃ الابرار ہیں! پڑتی ہے ہم پر بھی کچھ کچھ وحی رحماں کی پھوار پر وہی نافہم ملہم اول الاعدا ہوئے آگیا چرخ بریں سے ان کو تکفیروں کا تار سب نشاں بریکار اُن کے بغض کے آگے ہوئے ہو گیا تیر تعصب ان کے دل میں وار پار دیکھتے ہرگز نہیں قدرت کو اس ستار کی گوسناویں اُن کو وہ اپنی بجاتے ہیں ستار صوفیا! اب میچ ہے تیری طرح تیری تراہ آسماں سے آگئی میری شہادت بار بار قدرت حق ہے کہ تم بھی میرے دشمن ہو گئے یا محبت کے وہ دن تھے یا ہوا ایسا نقار دھو دیئے دل سے سارے صحبت دیریں کے رنگ پھول بن کر ایک مدت تک ہوئے آخر کو خار جس قدر نقد تعارف تھا وہ کھو بیٹھے تمام آہ! کیا یہ دل میں گذرا، ہوں میں اس کے دلفگار