دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 153

۱۵۳ اب ذرا سوچو دیانت سے کہ یہ کیا بات ہے ہاتھ کس کا ہے کہ رڈ کرتا ہے وہ دشمن کا وار کیوں نہیں تم سوچتے کیسے ہیں یہ پردے پڑے دل میں اُٹھتا ہے مرکرہ رہ کے اب سوسو بخار یہ اگر انساں کا ہوتا کارو باراے ناقصاں ! ایسے کاذب کیلئے کافی تھا وہ پروردگار کچھ بھی حاجت تمہاری نے تمہارے مکر کی خود مجھے نابود کرتا وہ جہاں کا شہریار پاک و برتر ہے وہ جھوٹوں کا نہیں ہوتا نصیر ورنہ اُٹھ جائے اماں پھر بچے ہو دیں شرمسار اس قدر نصرت کہاں ہوتی ہے اک کذاب کی کیا تمہیں کچھ ڈر نہیں ہے کرتے ہو بڑھ بڑھ کے وار ہے کوئی کاذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر میرے جیسی جس کی تائید میں ہوئی ہوں بار بار آفتاب صبح نکلا اب بھی سوتے ہیں یہ لوگ دن سے ہیں بیزار اور راتوں سوہ کرتے ہیں پیار روشنی سے بغض اور ظلمت پہ وہ قربان ہیں ایسے بھی شہر نہ ہونگے گر چہ تم ڈھونڈ و ہزار سر پہ اک سورج چمکتا ہے مگر آنکھیں ہیں بند مرتے ہیں دن آب وہ اور در پہ نہر خوشگوار طرفہ کیفیت ہے اُن لوگوں کی جو منکر ہوئے یوں تو ہر دم مشغلہ ہے گالیاں لیل و نہار پر اگر پوچھیں کہ ایسے کا ذبوں کے نام لو جن کی نصرت سالہا سے کر رہا ہو کر دگار مُردہ ہو جاتے ہیں اس کا کچھ نہیں دیتے جواب زرد ہو جاتا ہے منہ جیسے کوئی ہو سوگوار ان کی قسمت میں نہیں دیں کے لئے کوئی گھڑی ہو گئے مفتونِ دُنیا دیکھ کر اُس کا سنگار جی چرانا راستی سے کیا یہ دین کا کام ہے کیا یہی ہے زہد و تقویٰ کیا یہی راہِ خیار کیا قسم کھائی ہے یا کچھ پیچ قسمت میں پڑا روز روشن چھوڑ کر ہیں عاشق شبہائے تار