دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 137

۱۳۷ تم میں نہ رحم ہے نہ عدالت نہ اتقا پس اس سبب سے ساتھ تمہارے نہیں خدا ہو گا تمہیں کلارک کا بھی وقت خوب یاد جب مجھ پہ کی تھی تہمت خون از رو فساد جب آپ لوگ اس سے ملے تھے بدیں خیال تا آپ کی مدد سے اُسے سہل ہو جدال پر وہ خدا جو عاجز ومسکیں کا ہے خدا حاکم کے دل کو میری طرف اُس نے کر دیا تم نے تو مجھ کو قتل کرانے کی ٹھانی تھی یہ بات اپنے دل میں بہت سہل جاتی تھی تھے چاہتے صلیب پر یہ شخص کھینچا جائے تا تم کو ایک فخر سے یہ بات ہاتھ آئے جھوٹا تھا مفتری تھا تبھی یہ ملی سزا آخر میری مدد کے لئے خود اُٹھا خدا ڈگلس پہ سارا حال بریت کا کھل گیا عزت کے ساتھ تب میں وہاں سے بری ہوا