دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 136

۱۳۶ اپنا تو اس کا وعدہ رہا سارا طاق پر آوروں کی سعی و مُجید پہ بھی کچھ نہیں نظر کیا وہ خدا نہیں ہے جو فرقاں کا ہے خدا پھر کیوں وہ مُفتری سے کرے اس قدر وفا آخر یہ بات کیا ہے کہ ہے ایک مفتری کرتا ہے ہر مقام میں اُس کو خدا بُری جب دشمن اس کو بیچ میں کوشش سے لاتے ہیں کوشش بھی اس قدر کہ وہ بس مر ہی جاتے ہیں اک اتفاق کر کے وہ باتیں بناتے ہیں سو جھوٹ اور فریب کی تہمت لگاتے ہیں پھر بھی وہ نامراد مقاصد میں رہتے ہیں جاتا ہے بے اثر وہ جو سو بار کہتے ہیں ذلت ہیں چاہتے یہاں اکرام ہوتا ہے کیا مُفتری کا ایسا ہی انجام ہوتا ہے اے قوم کے سرآمدہ! اے حامیانِ دیں! سوچو کہ کیوں خدا تمہیں دیتا مدد نہیں