دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 129

۱۲۹ شوخی و کبر دیو لعیں کا شعار ہے آدم کی نسل وہ ہے جو وہ خاکسار ہے اے کرم خاک! چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کبر حضرتِ ربّ غیور کو بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوِصال میں چھوڑو غرور و کبر کہ تقویٰ اسی میں ہے ہو جاؤ خاک مرضی مولے اسی میں ہے تقویٰ کی جڑ خدا کیلئے خاکساری ہے عفت جو شرط دیں ہے وہ تقویٰ میں ساری ہے جو لوگ بدگمانی کو شیوہ بناتے ہیں تقویٰ کی راہ سے وہ بہت دُور جاتے ہیں بے احتیاط اُن کی زباں وار کرتی ہے اک دم میں اس علیم کو بیزار کرتی ہے اک بات کہہ کے اپنے معمل سارے کھوتے ہیں پھر شوخیوں کا بیج ہر اک وقت ہوتے ہیں