دُرِّثمین اُردو — Page 125
۱۲۵ کچھ ایسے مست ہیں وہ رُخ خُوب یار سے ڈرتے کبھی نہیں ہیں وہ دشمن کے وار سے اُن سے خدا کے کام سبھی معجزانہ ہیں یہ اس لئے کہ عاشق یار یگانہ ہیں اُن کو خدا نے غیروں سے بخشا ہے امتیاز اُن کے لئے نشاں کو دکھاتا ہے کارساز جب دشمنوں کے ہاتھ سے وہ تنگ آتے ہیں جب بدشعار لوگ انہیں کچھ ستاتے ہیں جب اُن کے مارنے کے لئے چال چلتے ہیں جب اُن سے جنگ کرنے کو باہر نکلتے ہیں تب وہ خدائے پاک نشاں کو دکھاتا ہے غیروں پہ اپنا رُعب نشاں سے جماتا ہے کہتا ہے یہ تو بنده عالی جناب ہے مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے اُس ذاتِ پاک سے جو کوئی دل لگاتا ہے آخر وہ اُس کے رحم کو ایسا ہی پاتا ہے