دُرِّثمین اُردو — Page 124
۱۲۴ کیوں زندگی کی چال سبھی فاسقانہ ہے کچھ اک نظر کرو کہ یہ کیسا زمانہ ہے اس کا سبب یہی ہے کہ غفلت ہی چھا گئی دنیائے دُوں کی دل میں محبت سما گئی تقویٰ کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے ہر دم کے محبت وفسق سے دل پر پڑے حجاب آنکھوں سے اُن کی چھپ گیا ایماں کا آفتاب جس کو خدائے عز وجل پر یقیں نہیں اُس بدنصیب شخص کا کوئی بھی دیں نہیں پر وہ سعید جو کہ نشانوں کو پاتے ہیں وہ اُس سے مل کے دل کو اسی سے ملاتے ہیں وہ اُس کے ہو گئے ہیں اسی سے وہ جیتے ہیں ہر دم اُسی کے ہاتھ سے اک جام پیتے ہیں جس کے کو پی لیا ہے وہ اُس مے سے مست ہیں سب دشمن اُن کے اُن کے مقابل میں پست ہیں