دُرِّثمین اُردو — Page 115
۱۱۵ وہ رہ جو یار گم شدہ کو کھینچ لاتی ہے وہ رہ جو جام پاک یقیں کا پلاتی ہے اس کا پاتی ہے وہ رہ جو اس کے ہونے پر محکم دلیل ہے وہ رہ جو اس کے پانے کی کامل سبیل ہے اُس نے ہر ایک کو وہی رستہ دکھا دیا جتنے شکوک و شبہ تھے سب کو مٹا دیا افسردگی جو سینوں میں تھی دُور ہو گئی ظلمت جو تھی دلوں میں وہ سب نور ہو گئی جو دور تھا خزاں کا وہ بدلا بہار سے چلنے لگی نسیم عنایات یار سے جاڑے کی رُت ظہور سے اس کے پلٹ گئی عشق خدا کی آگ ہر اک دل میں آٹ گئی جتنے درخت زندہ تھے وہ سب ہوئے ہرے پھل اس قدر پڑا کہ وہ میووں سے لد گئے موجوں سے اُس کی پردے وساوس کے پھٹ گئے جو کفر اور فسق کے ٹیلے تھے کٹ گئے