دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 100

آریوں سے خطاب عزیزو! دوستو ! بھائیو! سُنو بات خدا بخشے تمہیں عالی خیالات ہمیں کچھ کہیں نہیں تم سے پیارو پیارو نہ کیں کی بات ہے تم خود بیچارو اگر کھینچے کوئی کینے کی تلوار تو اس سے کب ملے بچھڑا ہوا یار غرض پند و نصیحت ہے نہ کچھ اور خدا کے واسطے تم خود کرو غور کہ گر ایشر نہیں رکھتا طاقت کہ اک جاں بھی کرے پیدا بقدرت تو پھر اس پر خدائی کا گماں کیا وگر قدرت بھی پھر وہ ناتواں کیا کہاں کرتی ہے عقل اس کو گوارا کہ بن قدرت ہوا یہ جگت سارا وگر تم خالق اس کو مانتے ہو تو پھر اب ناتواں کیوں جانتے ہو بھلا تم خود کہو انصاف سے صاف کہ ایشر کے یہی لائق ہیں اوصاف کہ کر سکتا نہیں اک جاں کو پیدا نہ اک ذرہ ہوا اس سے ہویدا نہ اُن دن چل سکے اس کی خُدائی نہ اُن بن کر سکے زور آزمائی نظر سے اس کے ہوں مجوب ومكتوم نہ ہو تعداد تک بھی اس کو معلوم معاذ اللہ ! یہ سب باطل گماں ہے وہ خود ایشر نہیں جو ناتواں ہے اگر کھولے رہے اس سے کوئی جاں تو پھر ہو جاوے اس کا ملک ویراں