دُرِّثمین اُردو — Page 148
۱۴۸ کس طرح پیٹیں کوئی تدبیر کچھ بنتی نہیں بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سُو ہر کنار ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اے ناخدا آ گیا اس قوم پر وقت خزاں اندر بہار نور دل جاتا رہا اور عقل موٹی ہو گئی اپنی کجرائی پہ ہر دل کر رہا ہے اعتبار جس کو ہم نے قطرۂ صافی تھا سمجھا اور تقی غور سے دیکھا تو کیڑے اس میں بھی پائے ہزار دوربین معرفت سے گند نکلا ہر طرف اس وبا نے کھالئے ہر شاخ ایماں کے ثمار اے خدا بن تیرے ہو یہ آبپاشی کس طرح جل گیا ہے باغ تقویٰ دیں کی ہے اب اک مزار تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ فتنہ کا قدم بڑھتا ہے ہر دم سیل وار اک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں اک نظر کر اس طرف تا کچھ نظر آوے بہار کیا کہوں دنیا کے لوگوں کی کہ کیسے سو گئے کس قدر ہے حق سے نفرت اور ناحق سے پیار عقل پر پردے پڑے سو سو نشاں کو دیکھ کر نور سے ہوکر الگ چاہا کہ ہوویں اہل نار گر نہ ہوتی بدگمانی کفر بھی ہوتا فنا اس کا ہووے ستیا ناس اس سے بگڑے ہوشیار بدگمانی سے تو رائی کے بھی بنتے ہیں پہاڑ پر کے اک ریشہ سے ہو جاتی ہے کو وں کی قطار حد سے کیوں بڑھتے ہو لوگو کچھ کرو خوف خدا کیا نہیں تم دیکھتے نصرت خدا کی بار بار کیا خدا نے اتقیاء کی عون نصرت چھوڑ دی ایک فاسق اور کا فرسے وہ کیوں کرتا ہے پیار ایک بدکردار کی تائید میں اتنے نشاں کیوں دکھاتا ہے وہ کیا ہے بدکنوں کا رشتہ دار کیا بدلتا ہے وہ اب اس سنت و قانون کو جس کا تھا پابند وہ از ابتدائے روزگار