دُرِّثمین اُردو — Page 108
۱۰۸ انذار و تبشیر پھر چلے آتے ہیں یارو زلزلہ آنے کے دن زلزلہ کیا اس جہاں سے کوچ کر جانے کے دن تم تو ہو آرام میں، پر اپنا قصہ کیا کہیں پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے سخت گھبرانے کے دن کیوں غضب بھڑ کا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو! ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن غیر کیا جانے کہ غیرت اس کی کیا دکھلائے گی خود بتائے گا انہیں وہ یار بتلانے کے دن وہ چمک دکھلائے گا اپنے نشاں کی پنج بار خدا کا قول ہے سمجھو گے سمجھانے کے دن طالبو! تم کو مبارک ہو کہ اب نزدیک ہیں اُس مرے محبوب کے چہرہ کے دکھلانے کے دن وہ گھڑی آتی ہے جب عیسی پکاریں گے مجھے اب تو تھوڑے رہ گئے دجال کہلانے کے دن