دُرِّثمین اُردو — Page 106
1۔7 اتمام حجت نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائے گا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہے یہ کیا عادت ہے کیوں کبھی گواہی کو چھپاتا ہے تیری اک روزاے گستاخ ! شامت آنے والی ہے ترے مکروں سے اے جاہل! مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کی ہیں تونے اور چھپایا حق مگر یہ یاد رکھ اک دن ندامت آنے والی ہے خدا رُسوا کرے گا تم کو میں اعزاز پاؤں گا سنواے مکرو! اب یہ کرامت آنے والی ہے