دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 87
بار ها هم رفت در خوردی پاره را لیسر کشی بردی عمر کا ایک حصہ کو بچپن میں گزر گیا اور ایک حصہ تو نے سرکشی میں ضائع کر دیا تازه رفت و بماند پس خورده و شمتان شاد و یاد آزرده عدہ حصے پہلے گئے اب میں خوردہ باقی رہ گیا۔دشمن نوش ہیں اور دوست لگتی ہیں صد تو مجھے بخورد نہیں سر توریت بر آسمان از کیں تیری طرح کے سینکڑوں تکبیروں کو مینکا گئی مگر بھی تیر اس تیمی کی وجہ سے آسمان پر ہے بیشتر از وضع عالم گذران بچون کند از زبان حال بیاں اس گذر جانے والے جہان کی روش سے یہ بات سن کر کس طرح وہ زبان حال سے بیان کرتا۔کھیں جہاں یا کسے وفا نہ کنند در کند صبر تا مجدا نہ کند کہ یہ جہان کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتا اور جب تک اپنے سے جدا نہ کرلے اُسے صبر نہیں آتا گر بود گوش بیشتری صد آه از دل مرده درون تباه اگر تیرے کان ہوں تو سینکڑوں نہیں سنے گا اس مُردہ دل سے جین کا اندرونہ بناہ ہو چکا ہے۔که چرا رو ببافتم به خدا دل نهادم در آنچه گشت بدال کر میں نے کیوں خدا سے منہ موڑ لہ اور اس چیز سے دل لگایا جو مجھ سے جدا ہوگئی قدیر این رو بپرس از اموات سے لیا گور با پر از حسرات bo اس رشتے کی قدر شروں سے پوچھ بہت میں قریب ہیں جو حسرتوں سے بھری پڑی ہیں سی جائے آن ست کو نہیں جائیے از توقع برول نہیں پاتے حاسب میں ہے کہ تو ایسی جگہ سے تقریشی اور پر ہری گدی کے ساتھ کوچ کر جاتے