دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 56

۵۶ ست مشترک از سعادت دور و واز لیوان سردی مجبور تمر مشرکی سعادت سے بہت دور ہے۔اور خدا کی دائمی رحمتوں سے پرے پھینکا گیا۔رضا باشد خدا را یافتن نے به کرد حمله و تدبیر و فن خدا کی مد سے ہی خدا کو پا سکتے ہیں۔نہ کہ چالا کی حیلہ اور کرد غریب کے ساتھ تانیانی پیش تقی پور طفل خورد است جام تو سیرا سر کے دور جب تک تو چھوٹے بچے کی طرح خدا کے سامنے نہ آئین کو تب تک تیرا جام صرف بچھٹ سے ہی بھرا ہے گا شرو نین تقی بود شجره دنیا دل کس ندیده آب بر جائے فراز خدا کے فیضان کے لیے مجو دنیا شرط ہے۔کسی نے پانی کو اونچی جگہ ٹھیرتے نہیں دیکھا من بیان سے جدید آنجا ناز نیست اثر بر خود تا درش پرواز نیست خدا کہ ماجوری پسند ہے وہا فور کا تھیں آنا اپنے پروں سے اس ایک لڑ کر نہیں پہنچ سکتے حاجیتال سا پر ور د ذات اجل سرکشان محروم و مرده و ازل | وہ بزرگ ذات ماجیوں کی پرورش کرتی ہے۔اور سرکش ہمیشہ محروم و مردود رہتے ہیں نیائی در یز تا آفتاب کے فدیہ تو شعاعی در مجاب آپ اور ان اکانت جیسے مویز کار با کم کنی اگر داری تمیز اسے عین تیری ہتھیلی میں تو کھاری پانی ہے۔اگر کچھ حمید ہے تو اس پر فخر نہ کر * آپ جہاں بخشے جاناں ریمات و طلب مے کن اگر ماں بیت | زندگی بخش پانی تو محبوب سے لے گا۔اگر زندگی در کار ہے تو جا اور اس سے مانگ