دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 45

قافتی سرد کنم و منال | این بود شکر نعمت اسے ناداں منعم اور مثانی خدا سے تو تھے سر پھیر لیا اسے ہیں توت کیا اسی کا نام شکر نعمت ہے؟ انول تعاون درین سرا چه دادن | عظمت می کند ز دیں بیروں | ان ولیل سرائے سے دل لگا آخر کار آدمی کو دین سے خارج کر دیتا ہے رکب کر کے بتی از فاو در ست دل به غیرسے مده کر فیوره است ندن کے اوپر کو چھوڑ دیناو ناداری سے بعید ہے غیر سے دل نہ لگا کیونکہ خدا بر غیرت مند ہے ادانی و باز سرکشی از وے | این چه بر خود ستم گئی ہے ہے تو جان بوجھ کہ اس سے سرکشی کرتا ہے ہائے افسوس تو اپنے اوپر کیا ظلم کر رہا ہے رچہ غیرسے خدا بخاطر تست | اک بہت قسمت انے یا یہاں نشست تھا کے سوا ہو بھی تیرے دل میں ہے اسے کمزور ایمان والے وہی تو تیرا بیت ہے اید عذر باش زمین بتان جہاں | اداین دل ز دست شاں پر ہاں ان محلی تینوں سے ٹوٹتا رہ اور اُن کے ہاتھ سے اپنے دل کا دامن چھڑانے چیست قدر کیکر شیر کش کار اچول زن زانیه بنزارش یار اس شخص کی کیا قدر ہے جس کا کام شرک ہو اور بد کار عورت کی طرح اس کے ہر نسل یار ہوں صدق سے دور نہ صدق میشه گیر جانب مصدق را ہمیشہ میرا اور زو صدق اختیار کر اور صدق کو اپنا بیشتر بنائے اور ہمیشہ صدق کا پہلو اختیار کر ادیده تو به صدق کشاید یاد رفته به صدق باز آید ی تیاری کے باعث تیری آگے کھل جائے گی اور شدہ دوست صدق کی بدولت واپس آئے گا