دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 372

۔چند فرزند را گذاشت تیم بیوه بیچاره مانده با صد بیم چند پول کو نیم چھوڑ گیا۔اور مہاری بیوہ سینکڑوں دکھ اٹھانے کے لیے اگٹھی این سال است میش دنیا را گرسنه مانی بپرس دانا مارا انیا کی زندگی کا یہ انجام ہے۔اگر تجھے خبر نہیں ترکسی عقلیہ سے ہی پوچھ لے بر سر گور پائے گشت اسے نام ہوش کن تا نه بد شود انجام سے نادان تیرا قدم قبر کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ہوش کر کہ تیرا انجام میاں نہ ہو ای جهان است مثل مروارے مروان چون سگے طلب گارے یہ جان مردار کی طرح ہے۔اور ہر جانب اس کے طالب کتوں کی طرح کھڑے ہیں ریت بانکی که دست نہیں مردار خاک شد تا مگر شود خوش یار داشتی آزاد ہوگیا میں نے اس مار ے بائی پائی اوروہ ناک ہوگیا تاکہ درست راضی ہوجائے تلف او ترک طالبان نکند کسی بکار مش زبان نه کند خدا کا لطف اپنے طالبوں کے شاہی حال رہتا ہے اس کی راہ میں کوئی بھی نقصان نہیں اٹھاتا هر کاز نو شد از دوش خواند نکته است گر کسی داند ان ہی سے مار ہوگیا یا اسے اپنے با لایا ہے یہ کیا اور گنے کے قابل ہے اگرسی کی کچھ میں جائے ونزول المسیح صفحه ۱۰ تا ۱۰۰ مجبور ۱۱۹۰۹ رانی مقیم هرچیز که آن می کار بود خود فرو کردیم و نانی کے انصاری وری و کار تھی ہم نے آپ کی جیت کو پڑ جالب دورنہ دراصل وہ کم تھی انی ها دارد در ده ارسال سید الاوران دسمبر ۱۹۰۹ء)