دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 339
٣٣٩ آمدم انگار باز آید میلان را قرار باز آید میں اس لیے آیا ہوں تا کہ محبوب کوٹ آئے اور بد دل لوگوں کو پھر آرام نہ دست فیلیم بپرورد هردم کرد و میش بهمن ظهوره تما ہا ایک میں ہاتھ پر میری پرورش کرتا ہے اور اس کی وحی نے کال طور سے مجھ پر تھور کیا ہے نور المام کچھ باد صبا نزدم آرد زیغیب خوشبو ا العام الہی کا نور باد صبا کی طرح غیب سے میرے پاس خوشبو میں لا رہا ہے زنده شد ہر نبی با مدغم ہر رسولے نہال به پیرهنم ہر نبی میرے آنے سے زندہ ہو گیا اور سر رسول میرے پیرا ھی میں پوشیدہ ہے پیر شد انه نور من زمان و زمین سر منورت بر آسمان از لیس از میرے گنے کی وجہ سے زمین و زمان روشن ہو گئے گر ابھی تیرا سرمدادت سے آسمان پر سے با خدا جنگ با کنی هیمات این چه جور و جفا کشی هیهات افسوس کہ تو خدا سے جنگ کر رہا ہے۔یہ کیا قلم وہی کر رہا ہے۔تجھ پر افسوس ان توزیع برول نهادی پا ہوش کن اسے روبینہ ناں کیتا کونے تقویٰ کی راہ کو چھوڑ دیا۔اسے تنہا سے ہے تعلق شخص ہوش کر ان نے مفتی زنگ و نامه در سوم نافتی رو تو حضرت قوم تو نے مخلوقات ننگ و ناموس اور نسوں کی خاطر اپنا منہ اس قوم کی درگاہ سے پھیر رکھا ہے رو برد کن که رو سرخ یار است همه رو با فدائے دلدار است جامعتہ اس کی طرف کر کہ اسی کا چہرہ تو اصل چرا سے سالن سے پھر سے اس دلدار پر سے مھربان ہیں